مارکیٹ میں جعلی انڈے سپلائی کئے جانے کا انکشاف !

کھانے پینے والی اشیاء میں ملاوٹ عام چیز ہے، عوام الناس ملاوٹ شدہ اشیاء کھانے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اب حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں امپورٹ شدہ نقلی انڈے بیچے جا رہے ہیں۔ یہ انڈے بالکل اصلی محسوس ہوتے ہیں ۔

ان کو کھانے والوں کو ذرا شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نقلی انڈہ کھا رہے ہیں۔ اس نقلی انڈے کی سپلائی ساؤتھ ایشیا اور خصوصاً انڈیا میں جاری ہے۔ یہ نقلی انڈے کھانے کی وجہ سے انڈیا میں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

ان انڈوں میں استعمال ہونے والا سارا مواد کیمیکلز پر مشتمل ہے۔ انڈے کے چھلکے کو کیلشیم کاربونیٹ سے بنایا جاتا ہے، اس کے علاوہ انڈے کی زردی اور سفیدی کو سوڈیم ایلگی نیٹ، جی لیٹنگ، کیلشیم کلورائیڈ، پانی اور فوڈ کلرز سے بنایا جاتا ہے۔ یہ سارا مواد انسانی جسم کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو کھانے سے طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

جیل میں ایک دن مولانا (ابوالکلام آزاد) نے مرحوم شبلی نعمانی کے متعلق ایک دلچسپ لطیفہ سنایا. کہنے لگے، مولانا شبلی نہایت زندہ دل صاحبِ ذوق آدمی تھے، حسن پرست بھی تھے اور موسیقی وغیرہ فنونِ لطیفہ سے گہری دلچسپی رکھتے تھے مگر مولوی تھے، عام رائے سے ڈرتے تھے اور بڑی احتیاط سے اپنا ذوق پورا کرتے تھے.

ایک دفعہ موصوف دہلی میں حکیم اجمل خاں مرحوم کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھےکہ خواجہ حسن نظامی ملنے آئے اور کہنے لگے، آج میرے ہاں قوالی ہے، دہلی کی ایک مشہور طوائف (میں نام بھول گیا ہوں) گائے گی. محفل بالکل

ہمارے معاشرے میں غیرت کس کو سمجھا اور جانا جاتا ہے میں کبھی جان نہیں پایا۔ لوگوں کاپتہ ہی نہیں چلتا کس چیز اور کس بات کو غیرت کہہ دیں چاہے اس کا غیرت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔اور جہاں واقعی غیرت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں لمبی تان لیں۔یہ اندھی غیرت حرکت میں آئے تو بس چھوٹی چھوٹی باتیں جن کا غیرت سے بظاہر تعلق نہیں ہوتا ،وہ بھی اسے ناگوارگزرتی ہیں اور ان چھوٹی باتوں پریہ جاگ جاتی ہے اور ایسی جاگتی ہے کہ سونا بھول جاتی ہے ، رکتی ہی نہیں ۔اس وقت غیرت کے نام پر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ذاتی مفاد ہو توکیا غیرت اور کونسی غیرت ، کوئی شرم کوئی حیا محسوس نہیں ہوتی۔بات مفادکی ہے، مفاد ہو تو ہر بات میں نہ ہوتے ہوئے بھی غیرت اچھل اچھل کر سامنے آ جاتی ہے یا پھرغیرت کی ضرورت کے باوجود آدمی بے حس ہو جاتا ہے۔ ہر شخص کا غیرت کا اپنا ہی معیار ہے۔

وہ ایک بچی ہے جس کی عمر بمشکل چودہ سال ہے۔وہ بچی ایک ماں بھی ہے جس کی ایک بچی ہے جو فقط دو سال کی ہے۔ ما ں اور بیٹی دونوں پریشان ہیں۔بڑی بچی کی ساس اور سسر اور چھوٹی بچی کے دادا دادی نے ان دونوں کو گھر سے نکال دیا ہے۔ایک اٹھارہ سالہ نوجوان جو ایک بچی کا میاں اور دوسری کا باپ ہے ، انہیں گھر لے کر جانا چاہتا ہے مگر بڑا بے بس ہے۔مسئلہ غیرت کا ہے اور غیرت کا جوش اس کے ماں اور باپ میں اس قدر رواں دواں ہے کہ اس کا سامنا وہ نوجوان کر ہی نہیں سکتا۔ویسے بھی ماں اور باپ ضرورت سے زیادہ جوشیلے ہوں تو احترام کرنے والی اولاد خود کو بے بس پاتی ہے۔مصالحتی

عدالت بھی کئی دنوں سے دونوں کو سمجھا رہی ہے، نوجوان سمجھتا تو ہے مگر کیا کرے ، جس گھر میں اسے اپنی بیوی اور بچی کو لے کر جانا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کا ہے۔ ماں اور باپ کے سامنے کچھ کہنا اس کی ہمت سے باہر ہے۔مالی حالت ایسی نہیں کہ بیوی اور بیٹی کو علیحدہ گھر لے کر رکھ سکے۔تین سال پہلے اس کی شادی بھی زبردستی اس کے نا چاہنے کے باوجود اس کے ماں اور باپ نے زبردستی کر دی تھی۔

نوجوان کی بڑی بہن ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی۔ فیکٹری میں کام کے دوران اس کے فیکٹری کے ایک سینئر ورکر کے ساتھ کچھ راہ ورسم استوار ہو گئے۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔اس ورکر نے لڑکی کے کہنے پر اس کے ماں اور باپ سے بات کی۔وہ ورکر پہلے سے شادی شدہ تھا اور پانچ چھہ بچے بھی تھے جن میں دو بیٹے جوان تھے۔وہ دوسرے خاندان کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں تھا۔ پہلی بیوی سے اجازت کا ان کے علاقے میں رواج ہی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پہلی بیوی کو اس مسئلے پر چاہے کچھ ہو جائے بولنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔مرد کی ان تمام خامیوں کے باوجود ڈھلتی عمر کی لڑکی

کے گھر والوں کو شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔مگرچونکہ وہ دیہات کے رہنے والے ہیں اور ان کے علاقے میں وٹے سٹے کی شادیوں کا رواج ہے اسلئے ان کے خاندان کے رواج کے مطابق ان کی بیٹی جس خاندان میں جائے گی اس خاندان کی ایک بچی ان کے بیٹے سے بیاہی جائے گی اور اس لازمی روایت کے سوا اس نوجوان کی بہن کی اس ورکر کے ساتھ شادی میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔

نوجوان کے نئے ہونے والے بہنوئی کی ایک دس گیا رہ سالہ نابالغ بیٹی کو اس رسم کی قربان گاہ پر قربان کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ایک معمر آدمی ،جس کی ایک بیوی اور پانچ چھہ بچے بھی ہیں، کی اس طرح کی دوسری شادی پر کسی کی غیرت نہیں جاگی۔ایک بیوی ،جو پانچ چھہ بچوں کی ماں ہے ، کی حق تلفی پر کسی کی غیرت کو جوش نہیں آیا۔ایک دس گیارہ نابالغ بچی کی نا سمجھی میں زبردستی کی شادی پر کسی غیرت نے آنکھ نہیں جھپکی۔ نا چاہنے کے باوجود ایک پندرہ سالہ نوجوان شادی کرنے پر مجبور ہو گیا کہ خاندان کی روایت کے ہوتے غیرت اور حمیت کی کیا وقعت ہے۔ سب کچھ ہوا اور ہوتا رہا مگر سب کی غیرتیں اور حمیتیں مفادات کے جھولتے پالنے پر بے خبر سوتی رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں