لیموں کے چھلکوں سے لاکھوں روپے کمائیں ۔۔ طریقہ ہم آپ کو بتاتے ہیں

لیموں کے یوں تو بے شمار فوائد ہیں لیکن یہ خاص طور پر گردوں اور جگر کی صفائی کے لیے بہترین ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر لیموں کا صرف رس نکال کر استعمال کیا جائے تو ہم اس کے کئی فوائد سے محروم ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیموں کو استعمال سے قبل اسے جما دینے سے اس کے فوائد تادیر محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیموں کے چھلکے میں اس کے گودے سے زیادہ وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق: لیموں کا چھلکا قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور کولیسٹرول میں کمی کرتا ہے۔ لیموں کا چھلکا کینسر سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

لیموں کے چھلکے جسم کے کئی اقسام کے انفیکشن کو ٹھیک کرتا ہے۔ لیموں کا چھلکا آنتوں سے نقصان دہ جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے۔ طبی ماہرین کی تجویز ہے کہ لیموں کے جوس کے بجائے لیمن سموتھی کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس میں چھلکے بھی ملائے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیموں کے باقاعدہ استعمال سے دمہ سے بچاؤ اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بلڈ پریشر کی سطح کو بھی معمول کے مطابق رکھتا ہے۔ لیموں کے چھلک میں وٹامن سی اور کیلشیم کی وافر مقدار ہوتی ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ لیموں کے چھلکوں میں سٹرک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو دانتوں کے امراض سے بچانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

لیموں کے رس سے وزن کے کمی کے بارے میں تو سب ہی کو معلوم ہے لیکن اس کے چھلکے میں بھی وہ اجزاء شامل ہوتے ہیں جو وزن میں نمایاں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ لیموں کے چھلکے میں غذائی فائبرز کی موجودگی قبض کو بھی قریب نہیں آنے دیتی اور جب پیٹ ٹھیک ہوگا تو پورا جسم بھی ٹھیک ہی رہے گا۔

حضرت احمد بن سعید رحمتہ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ہمارے یہاں کوفہ میں ایک نوجوان رہتا تھا تو انتہائی عبادت گزار تھا اور ہمہ وقت جامع مسجد میں پڑا رہتا تھا. ساتھ ہی وہ نہایت ہی دراز قامت ، خوبصورت اور خوب سیرت بھی تھا.

ایک حسینہ عورت نے اسے دیکھا تو پہلی ہی نظر میں وہ فریفتہ ہو گئی.ایک مدت تک عشق کی چنگاری اس کے دل میں سلگتی رہی لیکن اسے اپنی محبت کے اظہار کا موقع نہ ملا.ایک روز وہ نوجوان مسجد جا رہا تھا وہ عورت آئی اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی ،

اور کہنے لگی نوجوان ! پہلے میری بات سن لو اس کے بعد جو دل میں آئے وہ کرو. لیکن نوجوان نے کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا یہاں تک کہ مسجد میں پہنچ گیا. واپسی میں وہ عورت پھر راستے میں کھڑی نظر آئی جب وہ نوجوان قریب پہنچا تو اس نے بات کرنے کی

خواہش ظاہر کی. نوجوان نے کہا کہ یہ تہمت کی جگہ ہے ، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص مجھے تمہارے ساتھ کھڑا ہوا دیکھ کر تہمت لگائے اس لئے میرا راستہ نہ روکو اور مجھے جانے دو. اس عورت نے کہا خدا کی قسم میں یہاں اس لئے نہیں کھڑی ہوئی کہ مجھے تمہاری

حیثیت کا علم نہیں ہے ، یا میں یہ نہیں جانتی کہ یہ تہمت کی جگہ ہے ، خدا نہ کرے لوگوں کو میرے متعلق بد گمان ہونے کا موقع ملے لیکن مجھے اس معاملے میں بذات خود تم سے ملاقات پر اس امر نے اکسایا ہے کہ لوگ تھوڑی سی بات کو زیادہ کر لیتے ہیں اور تم جیسے

عبادت گزار لوگ آئینے کی طرح ہیں کہ معمولی سا غبار بھی اس کی صفائی کو متاثر کر دیتا ہے ،میں تو سو بات کی ایک بات یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میرا دل و جان تمام اعضاء تم پر فدا ہیں ، اوراور اللہ ہی ہے جو میرے اور تمہارے معاملے میں کوئی فیصلہ فرمائے.وہ نوجوان اس عورت کی یہ تقریر سن کر خاموشی کے ساتھ کوئی جواب دئیے بغیر اپنے گھر چلا گیا. گھر

پہنچ کر نماز پڑھنی چاہی لیکن نماز میں دل نہیں لگا اور سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں. مجبوراً قلم کاغذ سنبھالا اور اس عورت کے نام ایک خط لکھا. خط لکھ کر باہر آیا ، دیکھا کہ وہ عورت اسی طرح راہ میں کھڑی ہوئی ہے ، اس نے خط اس کی طرف پھینک دیا اور خود تیزی سے

گھر میں داخل ہو گیا.خط کا مضمون بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اے عورت ! تجھے یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب بندہ اپنے خدا کی نا فرمانی کرتا ہے تو وہ در گزر سے کام لیتا ہے جب وہ دوبارہ اسی معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تب بھی وہ پردہ پوشی فرما دیتا ہے ، لیکن جب وہ اس معصیت کو اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے تو پھر ایسا غضب نازل فرماتا ہے کہ زمین و آسمان شجر و

حجر کانپ اٹھتے ہیں ، کون ہے وہ جو اس کی سزا کو برداشت کر سکے ، کون ہے جو اس کی ناراضگی کا تحمل کر سکے ،بس اس کے حضور میں اپنے آپ کو پیش کر جو تمام جہانوں کا رب ہے ، اس جبار عظیم کے آگے سربسجود ہو جا اس سے محبت کر کیونکہ وہ شروع سے ہے اور آخر تک تیرے ساتھ رہے گا. فقط طالب دعا.اس خط کے کافی دنوں کے بعد وہ عورت پھر راستے میں کھڑی نظر آئی ، انہوں نے اسے دیکھ لیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا لیکن

اس عورت نے کہا ، کیوں واپس جاتے ہو ؟ یہ آخری ملاقات ہےآج کے بعد پھر خدا ہی کے یہاں ملاقات ہو گی. یہ کہہ کر خوب روئی اور کہنے لگی کہ میں خدا سے جس کے ہاتھ میں تمہارا دل ہے یہ دعا کرتی ہوں کہ وہ تمہارے سلسلے میں درپیش میری مشکل آسان فرمائیں. اب تم صرف مجھے ایک نصیحت کرو.نوجوان نے کہا ! میں صرف یہ نصیحت کرتا ہوں کہ

خود کو اپنے نفس سے محفوظ رکھنا اور اس آیت کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا.ترجمہ : اور وہ ذات تو ایسی ہے کہ رات میں تمہاری روح کو قبض کر دیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو اچھی طرح جانتا ہے.اور یہاں تک کہ وہ تمہاری آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں.یہ نصیحت سن کر وہ عورت بہت روئی اور دیر

تک روتی رہی. اور جب افاقہ ہوا تو اپنے گھر پہنچی اور کچھ عرصہ عبادت میں مشغول رہ کر ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئی..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں