لیموں کو استعمال کرنے سے قبل اسے فریج میں جما دیں اور پھر استعمال کرنے سے کیا ہوگا ؟ جان کر آپ ہمیشہ ایسا ہی کریں گے

لیموں کے یوں تو بے شمار فوائد ہیں لیکن یہ خاص طور پر گردوں اور جگر کی صفائی کے لیے بہترین ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر لیموں کا صرف رس نکال کر استعمال کیا جائے تو ہم اس کے کئی فوائد سے محروم ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیموں کو استعمال سے قبل اسے جما دینے سے اس کے فوائد تادیر محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیموں کے چھلکے میں اس کے گودے سے زیادہ وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق: لیموں کا چھلکا قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور کولیسٹرول میں کمی کرتا ہے۔ لیموں کا چھلکا کینسر سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

لیموں کے چھلکے جسم کے کئی اقسام کے انفیکشن کو ٹھیک کرتا ہے۔ لیموں کا چھلکا آنتوں سے نقصان دہ جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے۔ طبی ماہرین کی تجویز ہے کہ لیموں کے جوس کے بجائے لیمن سموتھی کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس میں چھلکے بھی ملائے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیموں کے باقاعدہ استعمال سے دمہ سے بچاؤ اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بلڈ پریشر کی سطح کو بھی معمول کے مطابق رکھتا ہے۔ لیموں کے چھلک میں وٹامن سی اور کیلشیم کی وافر مقدار ہوتی ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔

لیموں کے چھلکوں میں سٹرک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو دانتوں کے امراض سے بچانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ لیموں کے رس سے وزن کے کمی کے بارے میں تو سب ہی کو معلوم ہے

لیکن اس کے چھلکے میں بھی وہ اجزاء شامل ہوتے ہیں جو وزن میں نمایاں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ لیموں کے چھلکے میں غذائی فائبرز کی موجودگی قبض کو بھی قریب نہیں آنے دیتی اور جب پیٹ ٹھیک ہوگا تو پورا جسم بھی ٹھیک ہی رہے گا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کچھ مال آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں میں وہ مال برابر طریقے سے تقسیم کر دیا. حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے خلیفہ رسولﷺ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل بدر اور دوسرے لوگوں کے درمیان برابر کا برتاؤ کرتے ہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دنیا تو مقصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس میں زیادہ وسعت زیادہ بہتر ہے.

پھر ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مختتلف وفود روانہ فرما رہے تھے اور مختلف مہمات میں امراء کو مقرر کر رہے تھے کہ ایک آدمی یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی بدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں بھیجا. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگا کہ اے خلیفہ رسولﷺ! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل بدر کو عامل کیوں نہیں مقرر کرتے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے ان کے مقام کا علم ہے لیکن میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ ان کو دنیا میں آلودہ کروں

قارئین کرام!حضوراکرم ﷺ کی مقدس زندگی ہمارے لئے ایک کھلی کتاب ہے مگربات ہے عمل کرنے کی،اوروہ کھلی کتاب قرآن مجیدہے،قرآن مجیدمیں ہرقانون ،ہرمسئلہ،ہرمشکل کاحل اورہربیماری کی دواموجودہے۔یہ ایک نسخۂ کیمیاہے۔دنیاکے تمام ترکلام اس کے سامنے ہیچ ہیں۔اورحضورکریم ﷺ کی مقدس ذات توچلتاپھرتاقرآن ہیں۔مجھے تورشک آتاہے حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ کی قسمت پرجن کادودھ سرورکائنات ﷺ نے نوش فرمایا۔جس نے شہنشاہ دوعالم ﷺ کواپنی گودمیں کھلایا۔

مسلمانوں!بارہ ربیع الاول شریف کے دن کوکیوں نہ ہم ”عید”کہیں یہی تووہ دن ہے جس دن بنی نوع انسان کوپتھرکے بتوں سے آزادی نصیب ہوئی اورسب کومعبودبرحق کی طرف جانے کاراستہ مل گیا۔ذراسوچئے !اگرآقائے نامدار،سرورکائنات،فخرموجودات ﷺ تشریف نہ لاتے توآج ہم کن اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے اورپتہ نہیں کس کس درکی خاک چھان رہے ہوتے۔آج کے دن اﷲ رب العزت نے ہماری بخشش ونجات کی بنیادرکھی اورہمیں ایک ایسارہبرِ کامل عطافرمایاجنہوں نے دودھ کادودھ اورپانی کاپانی کردیا،اس لئے مسلمانوں !مناؤ جشن عیدمیلادالنبی ﷺ مناؤ۔اوراپنے عظیم محسن کی ولادت باسعادت کے موقع پرآپس میں خوشی

ومسرت کاخوب خوب اظہارکرولیکن آتش بازی کرکے نہیں۔فضول خرچی کرکے نہیں۔سرمایہ اجاڑ کرنہیں۔ڈھول باجے وغیرہ بجاکرنہیں،بلکہ محفل میلادالنبی ﷺکاانعقادکرکے،نظم وضبط،متانت وسنجیدگی کے ساتھ جلوس محمدی نکال کر، اپنی مسجدوں کوپنج وقتہ جماعت کے ساتھ نمازکی ادائے گی کرکے اورنوافل کثرت کے ساتھ پڑھ کر، آقائے دوجہاں کی بارگاہ میں درودوسلام بھیج کر،غریبوں کی امدادکرکے ،محتاجوں کوکھاناکھلاکر۔

آج ملک وبیرون ملک میں عیدمیلاد النبی ﷺ کے موقع پرجلوس محمدی ﷺ نکالنے کابھی اعلیٰ پیمانے پراہتمام کیاجاتاہے،قابل مبارک بادہیں وہ لوگ جوجلوس محمدی میں شرکت کرتے ہیں اوراپنے نبی کی مدح وثنامیں نعت پاک اوردرودوسلام کاگلدستہ پیش کرتے ہیں۔ جلوس میں سفید لباس کے ساتھ ساتھ متانت وسنجیدگی، امن وشانتی ،ادب واحترام،نظم وضبط،صبروتحمل اوراسلامی تہذیب وتمدن کامکمل طورسے خیال رکھیں اس لئے کہ یہ ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔جلوس کے دوران غیرشرعی حرکات سے پرہیزکریں ۔کیونکہ ایسی حرکتوں سے مذہب اسلام پرآنچ آتی ہے اوراسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیداکرنے میں مددملتی ہے۔

۱۲؍ربیع الاول شریف کی تاریخ انسانی تاریخ کاعظیم ترین دن ہے اس دن کوشایان شان طریقے سے خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پوری انسانی برادری اورانسانیت کودنیاوآخرت کی بھلائی کے حسین طورطریقوں کونبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنتوں کے آئینے میں اخذکرنے پرگذارناچاہئے۔ہرجشن مسرت،ہرجلسۂ میلادبامقصداورمؤثرہوناچاہئے۔تمام مسلمانوں کواس دن کی اہمیت کا حساس کرتے ہوئے گذشتہ کااحتساب اورآئندہ کالائحہ عمل تیارکرکے فلاح وصلاحِ انسانیت کے لئے ایک نئے جوش وجذبے کے ساتھ مشغول ہوناچاہئے۔اس تاریخ کے تمام جلسوں ،جلوسوں،میلادوں اوراجتماعات میں سرکاردوجہاں صلی اﷲ علیہ وسلم کی

سماجی،سیاسی،معاشی،معاشرتی اورعائلی زندگی کے تابناک گوشوں کواجاگرکرنے اوربیان کرکے عوام الناس کو بامقصدزندگی کے آغازکاسبق دیناچاہئے۔سرکاردوجہاں صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحم دلی،امن طلبی،احترام انسانیت،حقوق اﷲ ،حقوق العباد،تبلیغ اسلام،رواداری،مساوات،عورتوں کے حقوق واحترام،بچوں کی تعلیم وتربیت وذہنی تعمیر،حق کی پاسداری،برائیوں کی بیخ کنی کے حسین طریقے،آپسی بھائی چارگی،پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ پرروشنی ڈالنااُنہیں بیان کرنابہت ضروری ہے تاکہ آج کے بھٹکے ہوئے انسانوں کوتباہ ہوتے سماج ومعاشرہ کوسدھارنے کے لئے سچاجذبہ واخلاص میسرآسکے اورعظمت رحمت دوعالم ﷺبھی اجاگرہواوردیگراقوام پربھی

اچھے اثرات مرتب ہوسکے۔
جلسے جلوس کے انعقاداوربزم آرائی سے اصل مقصودیہ ہے کہ ہرمسلمان خواص سے عوام تک کی ذمہ داری اورعقیدت ومحبت رسول کاتقاضاہے کہ اپنے آپ کورسول پاک ﷺکی سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے کاعزم مصمم کرلیں اورہرمنزل پرہرموقعہ پراُنہیں سنتوں کی عملی تفسیربن کرسامنے آئیں دل،زبان اورعمل میں

یکسانیت پیداکریں۔ریاکاری ونام ونمودسے بچیں،خلوص وللٰہیت کواپنائیں۔ہاتھ پاؤں اورزبان سے کسی کواذیت وتکلیف نہ دیں۔کسی بھی غریب ،ناچاراورمجبورکی طاقت بھرمددکریں۔مظلو م کی حمایت،حق کی پاسداری کریں،علماء کرام،حفاظ عظام،مساجدکے اماموں اورمؤذنوں کی عزت واحترام کریں۔تعلیم اسلامی کوعام کرنے میں بھرپورحصہ لیں۔اچھی اورنیک باتیں بلاجھجک مگرشفقت ومحبت اوراحترام کے ساتھ دوسروں کابتائیں۔اختلاف وانتشارسے بچنے اوربچانے کی پوری کوشش کریں۔دینی،اسلامی،تاریخی کتابوں کامسلسل مطالعہ کرکے علم میں اضافہ کریں۔بے حیائی ،بے پردگی اورعریانت سے احترازلازم رکھیں۔اپنی اولادکوخصوصی طورپردینی تعلیم

بھرپوردیں۔مولیٰ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کوحضورنبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے صدقہ وطفیل عمل صالح کی توفیق عطافرمائے اورایمان پرخاتمہ نصیب فرمائے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں