بیٹے کی پیدائش کا جھانسہ دے کر جعلی پیر نے شادی شدہ خاتون کیساتھ کیا کر دیا؟ رونگھٹے کھڑے کر دینے والی خبر آگئی

بیٹے کی یقینی پیدائش کا جھانسہ دے کر جعلی پیر خاتون کو بچے سمیت اغوا کرکے لے گیا، شعبدے باز پیر نے مال مویشی بھی ہڑپ کرلئے،پولیس مال مویشی کی چوری کا مقدمہ درج کرکے سرخرو ہوگئی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق تھانہ روڈالہ روڈ کے علاقے چک نمبر 556 گ ب کے رہائشی محمد نواز کی بیوی معراج بی بی کو جعلی پیر شوکت علی نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عمل کے ذریعےلڑکے کی پیدائش کا جھانسہ دے کر سات سالہ بیٹے شہباز سمیت اغواءاور محمد نواز کے چچا موکھا کے مال مویشی لے اڑا۔

پولیس نے صرف مویشی چوری کا مقدمہ درج کیا جبکہ خاتون اور بچہ کا مقدمہ درج کرنے کی بجائے اہل خانہ کو کہا کہ خاتون اپنی مرضی سے جعلی پیر کے ساتھ بھاگ گئی ہے جس پر چپ سادھنے کا مشورہ دے دیا۔پولیس کی ہٹ دھرمی نے متاثرہ خاندان کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا

جبکہ اہل علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے جعلی پیر شوکت علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دھوکہ دہی سے کثیر تعداد میں خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر ان کو بلیک میل کرکے موٹی رقمیں وصول کرتا رہا جبکہ متعدد بار علاقہ پولیس کو شکایت کی مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

لوگوں کی عزتیں پامال کرنے کے ساتھ چونہ لگا کر فرار ہوگیا جبکہ سپیشل برانچ سمیت علاقہ پولیس بے خبر ہوکر آغوش کی میٹھی نیند سوئے رہے۔متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب، سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے خاتون اور بچے کو بازیاب کراکر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔‎

ایک لڑکا ایک گدھے کو کان سے پکڑ کر کھینچتا ہوا پولیس اسٹیشن کے سامنے سے گزر رہا تھا. پولیس والوں کو شرارت سوجھی ایک سپاہی نے لڑکے کومخاطب کرتے ہوئے کہا.

’’ارے اپنے بھائی کو کان سے پکڑ کر کیوں کھنچے لئے جا رہے ہو؟‘‘ اس لئے کہ یہ کہیں پولیس میں بھرتی نہ ہو جائے.‘‘ لڑکے نے فوراً جواب دیا.جونیئر ز کے ساتھیہ برطانیہ کا واقعہ ہے اور دوسری جنگ عظیم سے ذرا سا آگے یا پیچھے وقوع پذیر ہوا‘ ایک شخص سر پر ہیٹ رکھ کر‘ ہارس رائیڈنگ کالباس پہن کر‘گھوڑے پر بیٹھ کر پہاڑی

علاقے کی ایک سڑک پرجا رہا تھا‘ راستے میں سڑک ایک درخت گرا ہو اتھا.اس درخت نے راستہ روک رکھا تھا‘گھوڑے پر سوار3شخص گرے ہوئے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا‘ فوج کے تین چار جوان درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں. یہ درخت کو زور سے سڑک کے کنارے کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن درخت بھاری ہے اور اسے دھکیلنے والے لوگ کم ہیں.اس نے دیکھا‘ جوانوں کا سینئر ذرا سا فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ وہاں چھڑی لہرا لہرا کر انہیں مزید زور لگانے کی ہدایات دے رہا ہے. اس شخص نے اندازا لگایا کہ اگر یہ سینئر بھی ان جوانوں کے ساتھ لگ جائے‘ یہ بھی درخت کو ہٹانے کیلئے زور لگانا شروع کر دے تو درخت چند لمحوں میں سڑک سے کھسک جائے گا. وہ شخص گھوڑے سے اترا‘ سینئر کے پاس گیا اور اس سے مخاطب ہو کر بولا ”آپ بھی اگرجونواں کے ساتھ شامل ہو جائیں تو میرا خیال ہے درخت سڑک سے کھسک سکتا ہے‘ سینیئر نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولا ”میں ان کے ساتھ کیسے شامل ہو سکتا ہوں‘

میں سینئر ہوں‘ ان کا چیف ہوں‘ میں جونیئر بن کر اپنے ماتحتوں کے ساتھ کام کیسے کر سکتا ہوں‘ اس شخص نے یہ جوازسنا‘ مسکرایا‘ درخت کے قریب پہنچا اور جوانوں کے ساتھ مل کر درخت کو دھکا دینا شروع کر دیا. درخت کھسکا اور دو تین منٹ میں کھائی گر گیا‘ سڑک کلیئر ہو گئی‘اس شخص نے ہاتھ جھاڑے‘ گھوڑے پر بیٹھا‘ سینئر کے قریب آیا‘ اپنی جیب سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکالا‘ سینئر افسر کو دیا اور کہا میرا نام وینسٹن چرچل ہے.  اگر مستقبل میں تمہارے علاقے میں کبھی کوئی درخت گر گیا تو تم مجھے فون کر دینا‘ مجھے اپنے جونیئرز‘ اپنے ماتحوں کے ساتھ کام کر کے بڑا مزہ آتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں