آپ لوگ میرا مذاق اڑاتے ہو یا پھر میرے بنانے والے کا؟

آپ لوگ میرا مذاق اڑاتے ہو یا پھر میرے بنانے والے کا؟ ہر شخص یہ تحریر ضرور پڑھے

ہمارے گاؤں میں ایک چوک بنا ہوا ہے‘ آبادی کے درمیان میں‘ مین راستہ بھی وہیں پر آتا ہے ایک دفعہ ایک اجنبی پتہ نہیں کون تھا‘ شاید گاؤں میں کسی کے ہاں مہمان آیا ہوا تھا‘اس کی رنگت بہت زیادہ ہی سیاہ تھی‘ وہ وہاں چوک پر جب پہنچا تو وہاں چند نوجوان لڑکے بیٹھے ہوئے تھے جب انہوں نے اس کو دیکھا تو اس کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے‘ جب اس شخص کو محسوس ہوا کہ یہ لڑکے مجھ پر ہنس رہے ہیں تو اس نے ان کو بلا کر کہا بیٹا ذرا میری بات سننا‘ جب لڑکے ہچکچاتے ہوئے اس کے قریب پہنچے تو اس نے بہت خوبصورت بات کہی کہ ’’بیٹا! آپ مجھ پر ہنس رہے ہو یا میرے بنانے والے پر‘‘ تو سب یوں خاموش اور شرمندہ ہوئے کہ پھر نہ بولے‘

اس نے کہا کہ ’’آپ کو بھی وہی بنانے والا ہےاور مجھ کو بھی‘‘ اس لیے لوگ احمق ہیں جو دوسروں کی بناوٹ‘ معذوری‘ رنگ شکل پر ہنستے ہیں‘ میرا ذہن یہ کہتا ہے کہ کسی کو دیکھ کر ہنسنا نہیں چاہیے بلکہ اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس کریم ذات نے پر کتنا کرم کیا کہ ایسا نہیں بنایا اور کسی کو معذوری کی یا بُری حالت میں دیکھ کر استغفار پڑھنی چاہیے کہ یااللہ ہم کو ایسی معذوری سے محفوظ رکھا اور یااللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہم کو ایک مکمل اور خوبصورت انسان بنایا کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ یہ معذوریاں‘ رنگت‘ تنگدستی جو کچھ ہم دوسروں میں دیکھتے ہیں یہ اس مالک کا امتحان ہوتی ہیں کہ میرا بندہ کیا کرتا ہے اور ڈرتے رہنا چاہیے کہ سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے‘ وہ جب چاہے جو چاہے کرسکتا ہے‘ شاید اگلے لمحے کہیں ہم ایسی خامی ایسی معذوری کا شکار نہ بن جائیں۔ اس لیے ایسے لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہیے اور نہ جن پر لوگ ہنستے ہیں ان کو پریشان ہونا چاہیے بس اللہ کا شکر ادا کرکے ایسی باتوں سے درگزر کردینا ہی اچھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں