ہمبستری میں زبان کا چوسنا کیوں ضروری ہے

ایک بابے تو وہ ہیں جو اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے مخاطب اور ان کی تحریروں میں ہوتے تھے اور جو اپنی بے ریائی اور دنیا سے بے رغبتی کے باعث مخلوق خدا کےلیے نافع بھی تھے اور باعث سکون بھی۔ان کی گھٹی میں نہ تو نمود و نمائش تھی اور نہ ہی دنیاوی صلہ وستائش کی تمنا، وہ انسانوں اور مادی دنیا کی خواہشات سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ انہوں نے نہ تو کبھی آنے والے کی جیب پر نظر رکھی اور نہ ہی اس کی دنیاوی حیثیت پر۔

وہ لینے کے بجائے دینے کے فلسفہ پر عمل پیرا تھے۔ وہ سائل نہیں مسئول بن کر زندہ رہے۔ ان کے لنگر خانوں سے انسانیت پیٹ کی آگ بجھاتی رہی اور مجالس سے نصیحت کے متلاشی ہدایت کا نور پاتے رہے۔ یہی وہ بابے ہیں جنہوں نے مختلف صورتوں اور ادوار میں اسلام کی تعلیمات کو سادہ اور عام فہم اندازمیں لوگوں کے سامنے پیش کیا اور انہیں ایک مصطفائی معاشرے کی شکل میں اکٹھا رکھنے کے جتن کیے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ بزرگان دین کی خانقاہیں صدیاں گزرنے کے باوجود ان کی انسان دوستی، غریب پروری، خدا خوفی، جذبہ خدمت، سادگی اور دینداری کی زندہ نشانی کے طور پر قائم و دائم اور اسلام کے صوفیانہ مزاج کا پرچار کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس شاندار ماضی کے حامل بزرگوں کے ساتھ عقیدت و محبت کا رشتہ بالخصوص پاک و ہند کے باسیوں کےلیے ضروری بھی ہے کیونکہ تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر آج کے اکثر مسلمان خاندانوں کے آبا و اجداد ان ہی بزرگوں میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔

ہماری بدقسمتی کہ آج مادہ پرستی اور آپا دھاپی کے دور میں جب ایسے غنی اور سراپا فقر بابوں کی بہت زیادہ ضرورت تھی، ہم دنیا کے دیوانے اور عقل کے کانے، نام نہاد اور فقر کے نام پر سیاہ دھبہ عامل بابوں کے عفریت کا سامنا کررہے ہیں۔ ہر شہر میں اسپتالوں، ریلوے اسٹیشن کی دیواروں، سڑک کناروں اور کھمبوں پر بینروں اور وال چاکنگ کی صورت میں ایسی تحریریں بکثرت پڑھنے کو ملتی ہیں جن سے ہمیں اپنے معاشرے میں ان جاہل اور لٹیرے عاملوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں اور اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔

اب تو اسی پر بس نہیں، جہالت کا یہ طوفان دیواروں اور بینروں کا سفر طے کرتا ہوا کمال بے نیازی سے ملکی اور غیر ملکی ٹی وی اسکرینوں پر اپنے منحوس پنجے گاڑچکا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ سادہ اور کم تعلیم یافتہ لوگوں کی جیبیں کاٹ کاٹ کر یہ لوگ کس قدر مضبوط ہوچکے ہیں اور مالی آسودگی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

اگر ہم اپنے در و دیوار پر یا آج کل کے ’’کماؤ پُتّر‘‘ ٹی وی چینلوں کی اسکرینوں کو ملاحظہ کریں تو ہمیں کچھ ایسے کمرشل معہ مجہول جملوں اور بیانات سننے، پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے: محبوب آپ کے قدموں میں؛ کالے اور سفلی علم کی کاٹ پلٹ کے ماہر؛ شادی میں رکاوٹ، کاروبار میں بندش، رشتے ہو کر ٹوٹ جانا، خاوند کو دام میں لانا، قسمت کا حال جاننا، ساس کو رام کرنا، نندوں کو نیچا دکھانا، روٹھے ہووں کو منانا، دشمن کو تباہ کرنا، جہاں کسی کی کاٹ نہ چلے وہاں ہماری چلے؛ کون کہتا ہے کہ کلام میں اثر نہیں؛ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے؛ اگر آپ ان میں سے کسی بھی مشکل سے دو چار ہیں تو آج ہی ملیں سرزمین بنگال میں 40 سال تک چلہ کاٹنے والے، مہا دیویوں کے دیو، کالے علم کی کاٹ کے ماہر، دلوں کے راز جاننے والے، بچھڑے ہووں کو ملانے والے، ستاروں کی چال کے ماہر، دکھی دلوں کے سہارے، باوا کارتوس شاہ، پروفیسر کالیا، عامل باوا بنگالی، بابا ایم اے شاہ ڈھاکہ والے، پروفیسر باوا شیراں والے، بابا انڈونیشیا والے، سنیاسی باوا اجمیر والے، عامل نجومی بے اے ناگی؛ عورت کا دکھ عورت ہی سمجھ سکتی ہے، نوراں مائی…

مرد تو مرد، فراڈ اور دھوکا دہی کی اس گنگا میں خاتون عاملوں نے بھی ہاتھ دھونے شروع کردیئے ہیں۔ گزشتہ دہائی سے دیکھا جارہا ہے کہ غیرمسلم مرد و خواتین عاملوں نے بھی منظم انداز میں اپنا دامِ تزویر پھیلانا شروع کردیا ہے اور لوگوں کی اندھی عقیدت کا خوب خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔ بالخصوص عیسائی اور ہندو ناموں والے عاملین اس بازار میں اب نووارد نہیں رہے۔

اس مجرمانہ کارروائی کا ایک بڑا اور منفی اثر عامۃ الناس کی مذہبی عقیدت کے استحصال کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ مذہبی نعروں اور دین کی تبلیغ و اشاعت سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے اسمائے گرامی کو اس گھناؤنے فعل میں من مرضی سے استعمال کیا جارہا ہے۔ کوئی نجومی خاکِ کربلا کے حوالے دے رہا ہے تو کوئی عامل بغداد شریف کی بشارتیں سنا رہا ہے۔

ایک عامل نے کسی مقامی دربار کا سابقہ استعمال کیا ہوا ہے تو کسی دوسرے نے اسی طرح کسی معروف خانقاہ کا لاحقہ اپنے لمبے نام کا جزو بنا رکھا ہے۔ الغرض فراڈ، دھوکا دہی اور لوٹ مار کو ممکن بنانے والے جتنے ممکنہ جدید و قدیم ذرائع ہیں، انہیں استعمال کیا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ’’منی بیک گارنٹی‘‘ تک کی آفر بھی کی جا رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کام نہ ہو تو پیسے واپس! ستم ظریفانہ اور جدید حربہ یہ ہے کہ ان بے لگام عاملوں کی طرف سے اب مرحومین کی قضا نمازیں بھی مالی ہدیئے کے عوض پڑھوانے کی پیشکش اخبارات کی زینت بن رہی ہے۔

بالخصوص بیرون ملک مقیم لوگوں کو، جو ہمیشہ ہی پریشانیوں کے چنگل میں ہوتے ہیں، خصوصی منی بیک پیکیج اور قبل از وقت اپوائنٹمنٹ کی سہولت جیسی پیشکشیں دی جارہی ہیں اور بذریعہ موبائل تمام پھونک پھانک کا یقین دلایا جارہا ہے۔

ان عاملوں کی کارستانیوں اور جاہلانہ تعلیمات کے نتیجے میں آئے روز بے حیائی، عصمت دری، قتل، خاندانی بٹوارے اور رقوم اینٹھنے کے واقعات سامنے آرہے ہیں اور اللہ کی پاک کتاب اور اس کے نیک اولیاء کے، جن کے ناموں پر یہ دکانداری چمکائی جارہی ہے، اصلاح معاشرہ اور اخلاق حسنہ کے فروغ کےلیے تاریخی کردار کو بھی مسخ اور پراگندہ کیا جارہا ہے۔

جہاں ایک طرف طائفہ اولیاء کے پیروکاروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد اس قبیل کے لوگوں کا راز فاش کریں اور عوام کو ان کے گھناؤنے اعمال کے منفی نتائج اور گناہ سے آگاہ کریں، وہیں دوسری طرف عمالِ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ عوام میں گمراہی کا زہر پھیلانے والے ان بدقماشوں کے خلاف قانون سازی کریں تاکہ کم علم شہریوں کی جان، مال اور عزت ان جاہل اور ان پڑھ عاملوں کی دست برد سے محفوظ رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں